Home >>> Biographies >>> Biography of Muhammad Hussain Zaidi Barasti
Biography of Muhammad Hussain Zaidi Barasti

Biography of Muhammad Hussain Zaidi Barasti

سوانح حیا ت -سید محمد حسین زیدی برستی

سید محمد حسین زیدی برستی برست ضلع کرنال میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد منصبیہ عربی کالج نوگوا میں داخلہ لیا ۔ جہاں سے عربی فاضل اور فارسی فاضل کیا ۔
1947ءتقسیم پاکستان کے وقت ہجرت کی اور پہلے پہل سرگودھا میں قیام کیا پھر شیخوپورہ ، سمندری ، رجوعہ سادات ، میں مختصر قیام کے بعد بالآخر چنیوٹ کو اپنا مستقل مسکن بنایا ۔

1947ءمیں ہیومیو پیتھک ڈاکٹر کا امتحان پاس کیا اور باقائدہ پریکٹس شروع کی اور زندگی کے آخری ایا م تک لوگوں کی خدمت کرتے رہے ۔بہتر معاش کیلئے زمینداری بھی کرتے ۔ دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد مسلسل اپنے اساتذہ کے راست نظریہ کی وجہ سے توحید ،نبوت اورامامت پر سیر حاصل معلومات رکھتے تھے۔اورمسلسل انتھک کوششوں کے بعد تصانیف لکھنا شروع کیں ۔ آپ کا مخصوص موضوع شیخیت تھا ۔

یہ عرب سے ہوتا ہوا عراق و کویت کے راستے پاکستان میں وارد ہواجس کے چیلوں نے مذہب شیعہ میں دراڑیں ڈالنا شروع کیں اور مختلف قسم کی فراخات مذہب شیعہ میں شامل کرنا شروع کیںآپ نے ان خرافات کو روکنے کابیڑا اُٹھایا اور ہر جگہ ان کے خلاف آوا ز بلند کی خود بھی خطیب تھے۔ مجالس میں اور محفلوں میں ان کا پردہ چاک کیا عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹا یا ۔ بلآخر ہائی کورٹ میںمذہب شیخیت کے کرتادھرتا نے اپنے راز فاش کیے اور باقائدہ معافی نامہ لکھا۔ اس کے لیے علامہ صاحب کی کتاب ایک پراسرار جاسوس کردار یعنی (شیخ احمد حسائی مسلمانان پاکستان کی عدالت میں) مطالعہ کریں۔

چاند کمپنی کی طرف سے قرآن پاک کے ترجمہ میں تحریف کا واقعہ بھی اہم ہے جسے آپ عدالت لے گئے ۔اورچاند کمپنی کو معافی نامہ لکھ کر دینا پڑا اپنی غلطی مانی اور تحریف شدہ قرآن کی کاپیاں واپس لے کر دوبارہ اسے صحیح طریقہ سے شائع کیا ۔یہ آپ کی بہت بڑی کامیا بی تھی ۔ جب سارے پاکستان میں کسی کو بھی اس بات کا خیال نہ آیا ۔ آپ نے زندگی کے آخری لمحات تک تصنیف و تالیف کا سلسلہ جاری رکھا ۔ آپ نے توحید رسالت ،خلافت امامت ، صوفیا ، سیاست اور فلسفہ کے موضوع پر تصانیف لکھیں ۔ آپ کی زندگی کی آخری تصنیف فارسی میں ایران میں شائع ہوئی۔ جسے بہت پذیرائی ملی ۔ جو کہ پیشوائی ضلالت کے نام سے شائع ہوئی ۔ آپکی تصانیف کی تعداد بیالیس ہے ۔ 2006ءمیں فالج کے اٹیک اور بیماری کی وجہ سے شدید علیل ہوگئے ۔سارا جسم مفلوج ہوگیا لیکن پھر بھی اپنی جدجہد جاری رکھی ۔ میں اُن کا بڑا بیٹا الجزائر میں سلسلہ ملازمت قیا م پذیر تھا اُن کی بیماری کا سن کر پاکستان آیا

تو آپ زندگی اورموت کی کشمکش میں تھے مجھے اُن کی خدمت کا شرف حاصل ہوامسلسل علاج اوراللہ پاک کے احسان کی وجہ سے چار سال بعد آپ صحت یاب ہوگئے۔ دورانِ بیماری اپنی کاوشوں کو جاری رکھا۔ آپ بولتے اور میں لکھتا اس طرح بیماری کی حالت میں بھی آپ نے پندرہ کتابیں تصنیف کروائیں۔ سات سالہ بیماری اور تکلیف کی حالت میں بھی کوئی نماز نہ چھوڑی ۔ا شاروں سے اور بیٹھ کر نماز پڑھتے اور قرآن پاک کی تلاوت کرتے۔ مجھے ان کے ساتھ مسلسل رہنے اور ان کی دینی خدمت میں ہاتھ بٹانے کا مو قع ملا۔ یہاں تک کہ 23صفر ،18جنوری 2012نماز کیلئے اُٹھے۔ اور وضو کرتے ہوئے تکلیف محسوس ہوئی جب آپ کو گود میں اُٹھا کر بستر پر لٹایاگیا تو آپ کے منہ سے اِنَ للہ و اِنَ الیہِ راجعون کے کلمات تین بار نکلے ۔ اور آپ اپنے
خالق حقیقی سے جا ملے۔

ماخذ: نیاز حسین ولد محمد حسین زیدی
کمپوزر: عرفان خان
www.chiniotcity.com.pk


Hit Counter by technology News